Instruction

2 Jun 2013

Sura Najam 1



 اور انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے ۔ 
( سورۃ نجم آيت ۳۹ ) 

hadees---3


رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:

میری امت کے لوگ وضو کے نشانات کی وجہ سے قیامت کے دن سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والوں کی شکل میں بلائے جائیں گے. تو تم میں سے جو کوئی اپنی چمک بڑھانا چاہتا ہے تو بڑھا لے (یعنی وضو اچھی طرح کرے).
صحیح بخاری 136,,,,

30 May 2013

hadees--2


رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:
(اگر پانی موجود نہ ہو) تو تم کو پاک مٹی سے تیمم (طہارت حاصل) کرنا ضروری ہے، بس وہ تمہارے لیے کافی ہے.
صحیح بخاری 348
جلد 1

29 May 2013

حضور ﷺ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ سے محبت


       حضور ﷺ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ سے محبت        





زوجہ عثمان حضرت رقیہ بنت محمد ﷺ کے انتقال کے بعد ایک مرتبہ آپ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ سے اس حال میں ملاقات فرمائی کہ وہ انتہائی پریشان اور مغموم حالت میں بیٹھے تھے۔ حضور ﷺ نے ان کی خیریت دریافت کرتے ہوئے فرمایا: اے عثمان! کیا حال ہے؟‘‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا ’’یارسول اللہ!ﷺ جو صدمہ مجھ پر گزرا ہے کسی پر نہ گزرا ہوگا‘ صاحبزادی رسول اللہ ﷺ انتقال کرگئیں جس بنا پر آپ کا اور میرا سسرالی کا رشتہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا‘‘ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ’’اے عثمان! تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟ جبرائیل نے مجھ کو اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا ہے کہ میں رقیہ رضی اللہ عنہا کی جگہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح اس کے مہرمثل کے عوض میں اسی طرح تمہارے ساتھ کردوں‘‘ چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ سے کردیا پھر جب باامر خداوندی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہٗ کا بھی انتقال ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر میری اور لڑکی بھی ہوتی تو میں وہ بھی عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔‘‘
ایک رکعت میں پورا قرآن
عبدالرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہٗ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے (غالباً حج کے موقع پر) مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھنی شروع کردی اور اتنی لمبی نماز پڑھ لی کہ یہ خیال ہوا کہ اب اس میں مجھ سے کون سبقت لے جائے گا اتنے میں اچانک ایسا شخص آیا اور اس نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا لیکن میں نے اس کی پرواہ نہیں کی پھر جب اس نے دوبارہ ایسا کیا تو میں نے دیکھا کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ تھے میں فرط ادب سے اپنی جگہ سے ہٹ گیا‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ وہاں کھڑے ہوگئے اور آپ نے ایک ہی رکعت میں پورا قرآن پڑھ ڈالا اور واپس چلے گئے۔
خلافت کے بعد پہلا خطبہ
جب اہل شوریٰ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے ہاتھ بیعت ہوگئے تو اس وقت وہ بہت غمگین تھے ان کی طبیعت پر بہت بوجھ تھا وہ حضور اقدس ﷺ کے منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے بیان فرمایا: پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا‘ اس کے بعد فرمایا: ’’تم ایسے گھر میں ہو جہاں سے تمہیں کوچ کر جانا ہے اور تمہاری عمر تھوڑی باقی رہ گئی ہے لہٰذا تم جو خیر کے کام کرسکتے ہو موت سے پہلے کرلو‘ صبح یا شام تمہیں موت آنے ہی والی ہے غور سے سنو! دنیا سراسر دھوکہ ہی دھوکہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ترجمہ:’’ سو تم کو دنیا دھوکہ میں نہ ڈالے اور نہ وہ دھوکہ باز (شیطان) تمہیں اللہ سے (دھوکہ میں ڈالے)‘‘ اور جو لوگ جاچکے ہیں ان سے عبرت حاصل کرو اور خوب محنت کرو اور غفلت سے کام نہ لو کیونکہ موت کا فرشتہ تم سے کبھی غافل نہیں ہوگا‘ کہاں ہیں دنیا کے وہ دلدادہ جنہوں نے دنیا میں کھیتی باڑی کی اور اسے خوب آباد کیا اور لمبی مدت تک اس سے فائدہ اٹھایا؟ کیا دنیا نے انہیں پھینک نہیں دیا؟ چونکہ اللہ نے دنیا کو پھینکا ہوا ہے لہٰذا تم بھی اسے پھینک دو اور آخرت کو طلب کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اور آخرت کی۔۔۔ جو کہ دنیا سے بہتر ہے دونوں کی مثال اس آیت میں بیان کی۔ ترجمہ: اور آپ ان لوگوں سے دنیاوی زندگی کی حالت بیان فرمائیے کہ وہ ایسی جگہ ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا ہو پھر اس کے ذریعہ سے زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی ہو‘ پھر ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی ایک رونق ہے اور جو اعمال صالحہ باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی۔‘‘بیان کے بعد لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ سے بیعت ہونے لگے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کا آخری خطبہ
خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے مجمع کے اندر جو آخری بیان فرمایا اس میں مندرجہ ذیل کلمات ارشاد فرمائے: ’’ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دنیا اس لیے دی ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے آخرت حاصل کرو‘ اس لیے نہیں دی کہ تم اسی کے ہوجاؤ‘ دنیا فنا ہونے والی ہے اور آخرت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے نہ تو فانی دنیا کی وجہ سے اترانے لگو اور نہ اس کی وجہ سے آخرت سے غافل ہوجاؤ فانی دنیا پر ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح دو کیونکہ دنیا ختم ہوجائے گی اور ہم سب نے لوٹ کر اللہ کے پاس جانا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہی اس کے عذاب سے ڈھال اور اس کی بارگاہ میں پہنچنے کا وسیلہ ہے اور احتیاط سے چلو کہ کہیں اللہ تمہارے حالات نہ بدل دے اور اپنی جماعت سے چمٹے رہو اور مختلف گروہوں میں تقسیم نہ ہوجاؤ۔ ’’اور تم پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اس کو یاد کرو جب کہ تم ایک دوسرےکے دشمن تھے پس اللہ تعالیٰ نے تمہارے قلوب میں الفت ڈال دی تو سو تم خداتعالیٰ کے انعام سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔
دورفتن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کی حالت
ابوالاشعث الصنعانی سے روایت ہے کہ ملک شام میں مختلف خطیب خطبہ کیلئے کھڑے ہوئے ان میں حضور نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تھے پھر ایک شخص کھڑے ہوئے جنہیں مرہ بن کعب رضی اللہ عنہٗ کہتے تھے انہوں نے فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی تومیں کھڑا نہ ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کا ذکر کیا اور ان کا قریب ہونا بیان فرمایا پھر ادھر سے ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے گزرا‘ فرمایا اس دن یہ ہدایت پر ہوگا‘ میں نے اٹھ کر ان کو دیکھا تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہٗ تھے۔ میں نے ان کا چہرہ آنحضرت ﷺ کے سامنے کرکے عرض کی کہ ’’یہی ہیں‘‘ فرمایا ’’ہاں! یہی ہیں۔‘‘
حضرت عثمان ؓ اور اتباع سنت کا جذبہ
ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ اپنے کچھ مصاحبین کے ہمراہ تشریف فرما تھے اتنے میں مؤذن آیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا پھر فرمایا ’’میں نے حضور ﷺ کو ایسا ہی وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسا وضو میں نے ابھی کیا ہے۔ ایسا وضو کرنے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا تھا جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے گا پھر کھڑے ہوکر ظہر کی نماز پڑھے گا تو اس کے ظہر اور فجر کے درمیان کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے‘ پھر وہ عصر کی نماز پڑھے گا تو ظہر اور عصر کے درمیان کے سارے گناہ معاف کردئیے جائیں گے پھر وہ مغرب پڑھے گا تو مغرب اور عصر کے درمیان کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے‘ پھر وہ ساری رات بستر پر کروٹیں بدلتے گزار دے گا۔ پھر وہ اٹھ کر وضو کرکے فجر کی نماز پڑھے گا تو اس کے فجر اور عشاء کے درمیان کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے‘ یہی وہ نیکیاں ہیں جو گناہوں کو دور کردیتی ہیں۔‘‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ کے ساتھیوں نے دریافت کیا ’’اے عثمان! (رضی اللہ عنہٗ) یہ تو حسنات ہوگئیں تو باقیات صالحات کیا ہوں گی؟‘‘ آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا: ’’باقیات صالحات یہ کلمات ہیں:۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ وَلَا 
حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ اللہ پاک ہے‘ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں‘ اللہ سب سے بڑا ہے‘ نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔‘‘





28 May 2013

So when the Qur'an is recited,

27 May 2013

دعا کی قبولیت کی تین اقسام

دعا کی قبولیت کی تین اقسام _________ سبحان اللہ وبحمدہ

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !

کوئی بھی مسلمان جب کوئی ایسی دُعاء کرتا ہے جس میں گناہ نہ ہو ، اور نہ ہی صلہ رحمی کے خلاف ہو، تو اللہ اُس کو (اُس کی دُعاء کی قُبولیت میں) تین میں سے کوئی ایک چیز عطاء کرتا ہے ،
(1) یا تو اُس کی دُعاء کو جلد ہی پورا کر دیتا ہے ، اور
(2)یا اُس کی دُعاء کواُس کی آخرت کے لیے محفوظ کر دیتا ہے ، اور
(3)یا اُس ک...ی اُس دُعاء کے بدلے اُس پر آنے والے کوئی پریشانی ٹال دیتا ہے

مُسند احمد /حدیث11432،مُسند ابی سعید الخُدری رضی اللہ عنہ ُ میں سے حدیث 156 ، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے کہا ‘‘‘ حدیث حسن صحیح ’’’ہے ، صحیح الترغیب والترھیب/ حدیث 1633،

26 May 2013

hadees---1

ﺍﺳﻤﺎﺀ ﺑﻨﺖ ﻳﺰﻳﺪ ﺭﺿﻰ ﺍﻟﻠﮧ
ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻋﻨﮩﺎ ﺑﻴﺎﻥ ﻛﺮﺗﻰ ﮨﻴﮟ
ﺭﺳﻮﻝ ﻛﺮﻳﻢ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﻴﮧ
ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ:
"ﺗﻴﻦ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﻛﮯ ﻋﻼﻭﮦ
ﻛﮩﻴﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﺣﻼﻝ
ﻧﮩﻴﮟ:ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺍﭘﻨﻰ ﺑﻴﻮﻯ ﻛﻮ
ﺭﺍﺿﻰ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﮯ ﻟﻴﮯ ﺑﺎﺕ ﻛﺮﮮ،
ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﻣﻴﮟ ﺟﮭﻮﭦ، ﺍﻭﺭ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺻﻠﺢ ﻛﺮﺍﻧﮯ ﻛﮯ
... ﻟﻴﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﻨﺎ"
ﺳﻨﻦ ﺗﺮﻣﺬﻯ ﺣﺪﻳﺚ ﻧﻤﺒﺮ
( 1939 )ﺳﻨﻦ ﺍﺑﻮ ﺩﺍﻭﺩ ﺣﺪﻳﺚ
ﻧﻤﺒﺮ( 4921 )ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻟﺒﺎﻧﻰ
ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺻﺤﻴﺢ ﺗﺮﻣﺬﻯ
ﻣﻴﮟ ﺍﺳﮯ ﺻﺤﻴﺢ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﻳﺎ ﮨﮯ.

5 May 2013

O you who have believed, seek


O you who have believed, seek help through patience and prayer. Indeed, Allah is with the patient.

(Al-Baqara: 153)

17 Mar 2013

as to those who believe and work


  • As to those who believe and work righteous deeds, they have, for their entertainment, the Gardens of Paradise, (Al-Kahf: 107)

10 Mar 2013

پس ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے،، جو اپنی نماز سے غافل ہیں،، جو دکھلاوا کرتے ہیں


  • •• Surah Al-Maun #4 - 6 ••



    *So, Woe to those performers of Salah , Who are neglectful of their Salah, Who (do good only to) show of.


    پس ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے،، جو اپنی نماز سے غافل ہیں،، جو دکھلاوا کرتے ہیں

“When the Qur’an is read, listen to it with attention, and hold your peace: that you may receive Mercy”


“When the Qur’an is read, listen to it with attention, and hold your peace: that you may receive Mercy”

(Al Qur’an 7:204)

8 Mar 2013

Allah's fear


And whosoever fears Allah and keeps his duty to Him, He will make a way for him to get out (from every difficulty). And He will provide him from (sources) he never could imagine. And whosoever puts his trust in Allah, then He will suffice him.
 Al-Qur'an: al-Talaaq: 65:2-3

6 Mar 2013

admi ka emaan

آدمی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک اللہ تعالی کے خزانوں پر اس کا اعتماد اپنے پاس موجود چیزوں سے زیادہ نہ ہوجائے
Perfect faith of a person can not happen until he become confident on the treasures/blessings of ALLAH, more than he trust on his own things.

4 Mar 2013

but perhaps you hate a thing


‎"But perhaps you hate a thing and it is good for you; and perhaps you love a thing and it is bad for you. And Allah Knows, while you know not." 

[Al Qur'an 2:216]

sunheri batian


  • سنہری باتیں

    ''جب بھی کسی شخص پرظلم کرنے کاسوچو تو یہ خیال رکھنا کہ اللہ کو تم پر کتنی قدرت حاصل ہے یادرکھو جوآفت تم لوگوں پرمسلط کرو گے وہ ان پرایک نہ ایک دن ٹل جائے گی لیکن جو آفت تمہارے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی وہ نہیں ٹلے گی۔یادرکھو اللہ تعالی ظالموں سے مظلوموں کاحق لے کے رہے گا''۔

    حضرت عمربن عبدالعزیز رح :احیاعلوم للغزالی،بحث توبہ،ج4ص50

2 Mar 2013

jis nay Allha k rastay main

رسول الله صلی الله عليه وسلم نے فرمایا:
جس نے الله كے راستے میں ایک دن بھی روزہ رکھا تو الله اس كے چہرے کو جہنم سے ستر (70)
سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے.
صحیح بخاری 2840

1 Mar 2013

♥♥♥ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ * سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ♥♥♥

madeenah


ابو ہریرہ (رضي اللہ تعالی عنہ) سے روایت ہے کے رسول(صلی اللہ علیہ واله وسلم) نے فرمایا مدینہ کے پہاڑی راستوں پر فرشتے تعینات ہیں تا کہ نہ تو طاعون(وبائی امراض) اور نہ ہی دجال داخل ہو سکے.

[ بخاری، کتاب:9 ، جلد:88 ، حدیث:247 ]

Narrated Abu Huraira(Razi Allah Ta'ala Anhu)
...
Allah's Apostle(Sallallahu Alaihi Wa'alehi Wasallam) said, "There are angels at the mountain passes of Medina (so that) neither plague nor Ad-Dajjal can enter it.'

[Bukhari :: Book 9 :: Volume 88 :: Hadith 247]

28 Feb 2013

darood1


  • الصَــلَوۃ وَ السَـلام عَلَیکــــــــ يا رسول الله ♥ وَ عَلَى آلکـــــ وَ اصحَبکـــــ یا حَبیب اللہ